حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزه علمیہ قم کے تحقیقی امور کے سرپرست حجت الاسلام والمسلمین حسن ترکاشوند نے حوزہ علمیہ قم کے تخصصی مرکز شیعہ شناسی کے نئے تعلیمی سال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس تخصص کی اہمیت اور مقام کی طرف اشارہ کیا اور کہا: طلبہ کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک دین کو صحیح طور پر سمجھنا اور معارف اہل بیت (ع) کو معاشرے کے سامنے پیش کرنا ہے۔
انہوں نے کہا: قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کا دعویٰ عملی میدان میں ثابت کرنا ضروری ہے۔ صرف یہ کافی نہیں کہ ہماری شناخت میں شیعہ درج ہو بلکہ ہمیں عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا کہ ہم قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کے حقیقی پیروکار ہیں۔

حوزہ علمیہ قم کے امورِ تحقیق کے مسئول نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور ائمہ اطہار علیہم السلام سے حقیقی شیعہ کے معیار کے حوالے سے منقول روایات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں شیعہ ہونے کا واضح معیار بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اہل بیت علیہم السلام کے فرامین پر عمل کرے اور ان امور سے اجتناب کرے جن سے انہوں نے منع فرمایا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین ترکاشوند نے معاشرے میں دینداری کی بعض غلط تشریحات پر تنقید کرتے ہوئے کہا: افسوس کہ بعض اوقات دین کی ایسی تشریح پیش کی جاتی ہے جس کے مطابق اگر انسان کا دل پاک ہو تو پھر حلال و حرام اور واجبات و محرمات کی طرف توجہ ضروری نہیں رہتی، حالانکہ حقیقی دینداری اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل اور دینی تعلیمات کی پابندی میں ہی معنی پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے معاشرتی ماحول میں دین مخالف بعض فکری و ثقافتی تحریکوں کے پھیلاؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج بعض افراد کے دین سے دور ہونے کے علاوہ ہمیں دین دشمنی کے رجحان کا بھی سامنا ہے اور ایسے ماحول میں دیندار رہنا ایک مشکل کام ہے جبکہ دین کا دفاع کرنا اس سے بھی زیادہ دشوار۔لہذا طلبہ کی ایک اہم ذمہ داری دین کی صحیح معرفت اور اسے معاشرے کے سامنے درست انداز میں متعارف کرانا اور ان خطرات کے خلاف علمی مقابلہ کرنا ہے جو مکتب تشیع کو درپیش ہیں۔









آپ کا تبصرہ